ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
دل میں صنم کی صورت آنکھوں میں عاشقی دے
دنیا میں اگر اپنی کوئی جگہ بنانی ہے
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
خاک سے تم اور خاک سے ہیں ہم
کمزور شخص کبھی معاف نہیں کرسکتا
وہ جانتی تھی کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا
بس ختم کرو یہ بازی عشق غالب
چاند بھی رو پڑا تھا میری حالت دیکھ کر
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
دوا کی تلاش میں رہا دعا کو چھوڑ کر
چٹھی نہ کوئ سندیس جانے وہ کون سا دیس
اس شرط پے کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
نہ ہم رہے دل لگانے کے قابل
عمر دراز مانگ کر لاتے تھے چاردن